ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل کا نتیجہ ،دریائے کاویری کے پانی پر کرناٹک کا اختیار ختم ہوجائے گا

کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل کا نتیجہ ،دریائے کاویری کے پانی پر کرناٹک کا اختیار ختم ہوجائے گا

Sat, 01 Oct 2016 11:13:35    S.O. News Service

بنگلورو30؍ستمبر(ایس او نیوز)کاویری مسئلے پر آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کی طر ف سے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کی ہدایت اور تین دن کے اندر اسے قائم کرنے پر مرکزی حکومت کی آمادگی کو کرناٹک کے حق میں موت کے فرمان سے تعبیر کیاجارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کے ساتھ ہی دریائے کاویری کے پانی پر کرناٹک کا اختیار مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ مرکزی محکمۂ آبپاشی کے چیف انجینئر کی قیادت میں قائم ہونے والی نگرانی بورڈ میں کیرلا ، کرناٹک ، تملناڈو اور پانڈیچری کے نمائندے شامل رہیں گے۔ کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر کرشنا راجہ ساگر، ہیماوتی ، کبنی ، اور ہارنگی میں جمع ہونے والے پانی پر مکمل اختیار اس نگرانی بورڈ کا ہوگا ، یہ بورڈ ہی طے کرے گا کہ کس ریاست کو کتنا پانی کس مرحلے میں جاری کیاجائے۔ ریاست میں اگر بارش نہ ہوکاویری طاس میں پانی جمع نہ رہے اس کے باوجود بھی تملناڈوکو پانی کی فراہم بورڈ کی تشکیل کی صورت میں بلارکاوٹ جاری رہ سکتی ہے۔مرکزی حکومت کی طرفس ے اس بورڈ پر راست کنٹرول رکھا جائے گا، جس سے یہ خدشات بڑھ چکے ہیں کہ کاویری معاملے میں کرناٹک کے تئیں ناانصافی اور تملناڈو کے تئیں جانبداری کا سلسلہ اور بڑھ جائے گا۔ ریاست کے اہم علاقوں سے گزرنے والی دریائے کاویری کے ایک قطرہ پانی پر بھی ریاست کا اختیار بالکل نہیں رہے گا۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کا چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ امکان نہیں ہے کہ کسی بھی عدالت میں چیلنج کئے جانے سے اس حکم پر روک لگائی جاسکتی ہے۔ کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل کے مرحلے میں پہلے ہی طے کیاگیا ہے کہ کاویری طاس کے علاقوں میں اگر بارش نہیں ہوئی تب بھی تملناڈوکو پانی ٹریبونل کی طے کردہ مقدار کے مطابق فراہم کیاجاتا رہے گا۔پانی کی قلت کا جو بھی خمیازہ ہے وہ کرناٹک کو بھگتنا پڑے گا۔ میسور ، منڈیا اور آس پاس کے علاقوں کے کسانوں کو صرف ایک فصل کیلئے کاویری کا پانی مہیا کرایا جاسکے گا۔ 


Share: